لباسِ تیرگی پہنا ہوا ہے
ہتھیلی پر دیا رکھا ہوا ہے
قیامت ہے کسی کو بھول جانا
مگر یہ فیصلہ اچھا ہوا ہے
نہیں مجنوں کا اب کوئی مقلد
مزاجِ عاشقاں بدلا ہوا ہے
مسافر لوٹ کر گھر آگئے ہیں
ہر اک چہرہ مگر اُترا ہوا ہے
کسی سہمے ہوئے بچے کی صورت
پرندہ پیڑ سے لپٹا ہوا ہے
ترا غم بھی مجھے لگتا ہے جیسے
کوئی مہمان گھر آیا ہوا ہے
مری تشنہ لبی دھوکہ نہ کھائے
وہ بادل ہے مگر برسا ہوا ہے
ہمارا دل بھی اب اعجاز دانش
سمندر تھا مگر صحرا ہوا ہے
